Latest
Home / News / Tell me who is MMM who is fighting them, Maulana Bakhsh Chandio

Tell me who is MMM who is fighting them, Maulana Bakhsh Chandio

حیدرآباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما مولا بخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم رہنما ایک دوسرے کے راز فاش کرتے ہیں پھر رات کو روتے ہیں، ان کا رونا ان کی غلطیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

حیدر آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ معلوم نہیں ڈاکٹر فاروق ستار کو کیا ہوگیا ہے 6،6 بار استعفے دیتے ہیں اور پھر واپس لے لیتے ہیں، فاروق ستار جس انداز سے بولتے ہیں اس انداز سے سوچتے نہیں ہیں۔

مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ ایم کیو ایم میں ہونے والی توڑ پھوڑ میں پیپلز پارٹی کا کوئی کردار نہیں، ہم کسی بھی سیاسی صورتحال سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے، ایم کیو ایم والے خود بتائیں کہ وہ کون ہے جو انہیں لڑا رہا ہے ڈاکٹر فاروق ستار کو کنوینر شپ سے ہٹانا ایم کیو ایم کا اندرونی معاملہ ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ کراچی اور حیدر آباد کے بنیادی مسائل کے ذمہ دار یہی ہیں جو برسوں سے وہاں قابض رہے، آپ انسانوں کو بے سکون کرتے ہیں تو آج خود بے سکون ہوگئے، ان کا حال آج سب دیکھ رہے ہیں، ایک دوسرے کے بخیے اکھیڑتے ہیں راز فاش کرتے ہیں اور پھر رات کو روتے ہیں، جس طرح کراچی کے لوگوں نے ان پر اعتماد کیا وہ اس پر پورا نہیں اترے، وہ اردو بولنے والوں کو غلام سمجھ رہے ہیں، اب کراچی کے عوام کو بھی فیصلہ کرلینا چایے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ میاں صاحب اور (ن) لیگ عوام کے اعتماد پر پورا نہیں اترے، (ن) لیگ پنجاب کے مخصوص علاقوں اور جی ٹی روڈ کی جماعت ہے، دوسری طرف تکبر نے چوہدری نثار کی دم پر پاؤں رکھ دیا ہے، چوہدری نثار کی اصلیت سب پر ظاہر ہوگئی، (ن) لیگ کے سینئر رہنماؤں نے مریم نواز کی قیادت کو قبول کرلیا تو چوہدری نثار کون ہوتے ہیں جو مریم نواز کی قیادت کو قبول نہ کریں۔

مولا بخش چانڈیو نے چیئرمین تحریک انصاف کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ عمران خان بادشاہ آدمی ہیں، انہوں نے اتنے ہنگامے کیے جیسے 70 سال سے سیاست کررہے ہیں، عمران خان نے بند گلی اور تنگ راستے میں جانا پسند کیا ہے، انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ آپ تنگ نظری کا راستہ چھوڑ دیں۔

loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*